بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سیہہ کھانے کا حکم

سوال

کسی شخص کو علم ہو یا علم نہ ہو اور وہ حرام جانور کھا لے تو کفارہ کیا ہوگاو مثلاً لمبے کانٹوں والی سیہہ کھالی؟

جواب

احناف کے نزدیک سیہہ کھانا شرعاً ناجائز ہے۔ لہذا اگر کوئی شخص حرام جانوروں میں سے کوئی جانور کھالے تو اس پر توبہ واستغفار لازم ہے،  آئندہ کے لیے اپنے اس فعل سے اجتناب کرے۔

البتہ یہ یاد رہے کہ جو چیزیں قطعی حرام ہیں اگر کوئی شخص ان حرام چیزوں کوحرمت کا علم ہونے کے باجودعمداً حلال جان کر کھائے گا تو دائرۂ اسلام سے خارج ہوجائے گا، ایسے  شخص پر تجدیدِ ایمان اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدیدِ  نکاح بھی دونوں لازم ہوں گے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144106200919
تاریخ16-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں