بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لاپتہ شخص کے انتقال کی خبر ملے تو بیوہ کی عدت کا حکم

سوال

ایک شخص  جو  پندرہ ماہ سے لاپتا  تھا اور اب معلوم ہوا ہے کہ وہ  چھے مہینے پہلے مارا گیا ہے،  کیا اس کی بیوی کو عدت پوری  کرنی ہوگی یا نہیں؟

جواب

مذکورہ صورت میں اس شخص کی موت کے بعد عورت کے چار ماہ اور دس دن گزر گئے ہیں، لہذا اس کی عدت گزر چکی، اب دوبارہ عدت گزارنا واجب نہیں۔

"(و) العدة (للموت أربعة أشهر) بالأهلة لو في الغرة كما مر (وعشر) من الأيام بشرط بقاء النكاح صحيحًا إلى الموت (مطلقًا) وطئت أو لا ولو صغيرة، أو كتابية تحت مسلم ولو عبدا فلم يخرج عنها إلا الحامل". (الدر مع الرد: ٣/ ٥١٠) فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200916
تاریخ16-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں