بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی دوسری قوم کا مخصوص لفظ نام کے ساتھ لگانا

سوال

کُچھ لوگوں سے سنا ہے کہ اپنی ذات بدلنا، مطلب اپنی کاسٹ بدلنا منع ہے،  قرآن میں بھی اور ویسے بھی،  مطلب جیسے میں میمن ہوں اور میں اپنے نام کے ساتھ خان لگاتا ہوں تو  وہ مجھے کہتے ہیں کہ جائز نہیں، تو کیا یہ بات درست ہے اور اس کی کیا حقیقت ہے؟

جواب

احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے والد، خاندان کے علاوہ کسی دوسرے  کی طرف اپنی نسبت کرنا حرام ہے۔ اسی تناظر میں اگر اپنے نام کے ساتھ کوئی ایسا لفظ جوڑ دیا جائے جس سے یہ تاثر دیا جائے کہ وہ آدمی کسی اور قوم سے تعلق رکھتا ہے تو یہ عمل ناجائز ہوگا۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5 / 2170):
"(لاترغبوا) : أي: لاتعرضوا (عن آبائكم) : أي: عن الانتماء إليهم (فمن رغب عن أبيه): أي: وانتسب إلى غيره (فقد كفر): أي قارب الكفر، أو يخشى عليه الكفر. في النهاية: الدعوة بالكسر في النسب، وهو أن ينتسب الإنسان إلى غير أبيه وعشيرته، وكانوا يفعلونه فنهوا عنه، والادعاء إلى غير الأب مع العلم به حرام، فمن اعتقد إباحته كفر لمخالفة الإجماع، ومن لم يعتقد إباحته فمعنى".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200909
تاریخ16-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں