بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد مرحوم کا سودی قرض ادا کرنا

سوال

میرے والد کا 2011ء میں انتقال ہوا ہے، انہوں نے بینک سے قرضہ لیا تھا، جب ان کا انتقال ہوا اس وقت قرضہ چڑھا ہوا تھا، اصل رقم 4 لاکھ دس ہزار روپے تھی اور مارک اپ ایک لاکھ پچاس ہزار روپے تھے، اگر میں قرضہ واپس کروں تو مجھے صرف اصل رقم دینی ہوگی یا قرض اور مارک اپ دونوں دینے ہوں گے؟

جواب

سائل کے ذمہ اپنے والد کا قرضہ ادا کرنا لازم ہے، اگر سود کی رقم دیے بغیر اصل رقم واپس کرنے کی کوئی بھی صورت بنتی ہو اسے اختیار کرے، لیکن اگر بینک والے سود کی رقم لیے بغیر اس معاملے کو ختم نہیں کریں گے تو ناجائز سمجھتے ہوئے قرض اور اس پر لگی سود کی رقم دے کر والد مرحوم کے قرضے کو ختم کیا جائے اور ان کے لیے استغفار بھی کریں۔ فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200903
تاریخ16-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں