بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا عورت فتنہ ہے؟

سوال

کیا یہ حدیث میں آیا ہے ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے عورتوں کو فتنہ کا نام دیا ہو؟  اگر ہے تو تفصیل کے ساتھ جواب ارسال کریں!

جواب

حدیث شریف میں ہے :

"ماترکت بعدي فتنةً أضرّ علی الرجال من النساء". (صحیح البخاري، باب ما یتقی من شوم المرأة : ۷/۸، رقم الحدیث : ۵۰۹۶،ط:طوق النجاۃ)

اس حدیث میں عورت کو فتنہ قرار دیا ہے، لیکن یہ فتنہ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب آزمائش ہے،  یعنی مردوں کے لیے سب سے بڑی آزمائش عورت ہے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ انسان کو کبھی نعمت دے کر آزماتے ہیں، کبھی نعمت چھین کر آزماتے ہیں، لہذا عورت بھی ایک نعمت ہے، لیکن آزمائش کا سبب و ذریعہ ہے، اس حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عورت منحوس یا بدی ہے۔  فقط و اللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200902
تاریخ16-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں