بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو کروڑ مالیت کے مکان میں رہائش پذیر شخص کو زکات دینے کا حکم

سوال

میرے سسر پچھلے کئی سالوں سے بیمار ہیں، ان کا ایک ہی بیٹا ہے،  ایک عدد ذاتی مکان جس کی مالیت تقریباً  2 کروڑ ہے میں رہائش پذیر ہیں، اس کے علاوہ ان کے بیٹے کے پاس ایک عدد دکان جس کی مالیت تقریبا 50 لاکھ روپے ہے، مگر کچھ ناگزیر وجوہات پر بند پڑی ہے، اس کے علاوہ کوئی ذریعۂ روزگار نہیں، کیا ان کو زکات دینا جائز ہے؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ معلومات کے اعتبار سے آپ کے سسر  مستحقِ زکات ہیں، اس لیے ان کو  زکات دینا جائز ہے۔ آپ اپنے مال کی زکات انہیں دے سکتے ہیں، لیکن ان کی بیٹی اپنے مال کی زکات انہیں نہیں دے سکتی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200881
تاریخ16-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں