بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وتر صبح سے پہلے ادا کرنا

سوال

میری عادت ہے وتر کی نماز فجر سے پہلے پڑھنے کی،کبھی غلطی سے یاد نہیں رہا یا بھول گئی اور اگر  نیند آگئی اور فجر کے وقت آنکھ کھل گئی، وقت نہیں  تو اس صورت میں عشاء کی نماز دوبارہ پڑھنی ہے؟

جواب

جب تہجد میں اٹھنے کا یقین نہ ہو تو وتر کی نماز عشاء کے ساتھ ہی پڑھ لی جائے، اسے تہجد تک مؤخر نہ کیا جائے، اور اگر آپ کی عام عادت تہجد میں بیدار ہونے کی ہے تو  تہجد کے بعد ادا کرنا بہتر ہے۔ 

وتر  رہ جانے کی صورت میں صرف وتر  کی تین رکعات کی قضا لازم ہوگی  عشاء  دوبارہ پڑھنا درست نہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200870
تاریخ16-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں