بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شراکت داری کی ایک صورت

سوال

 زید نے ایک شخص کو ایک کروڑ روپے دیے؛ تاکہ اس سے  وہ  اپنی زمین پر دکانیں بنائے اور یہ طے کیا کہ جو دکانیں بن گئیں ان کا کرایہ آدھا آدھا لیں گے اور جب  آپ مجھے میرے ایک کروڑ واپس کریں گے  تو پھر میں درمیان سے نکل جاؤں گا، آپ کو  آپ کی  زمین اور اس کی دکانیں یعنی تعمیر شدہ بلڈنگ ملے گی۔

مہربانی کریں جواب دیں کہ یہ صورت ٹھیک ہے یا نہیں؟ اور اگر ٹھیک نہیں تو ٹھیک صورت کیا ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ طریقہ پر نہ شراکت داری درست ہے اور نہ ہی کرایہ لینا جائز ہے، درست صورت یہ ہوگی کہ مسمی زید مذکورہ  شخص سے پچاس لاکھ میں آدھی زمین خرید لے اور پھر دونوں افراد پچاس پچاس لاکھ نقد رقم سے مذکورہ زمین پر بطورِ شریک تعمیرات کروائیں، اور جو کرایہ آئے وہ آدھا آدھا تقسیم کرلیں۔

مستقبل میں کوئی شریک شراکت داری سے نکالنا چاہے تو  اپنا حصہ دوسرے شریک کو اس وقت کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے فروخت کردے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144106200869
تاریخ16-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں