بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زمین ٹھیکے پر دے کر متعین پیداوار لینا

سوال

میں نے اپنی بہن کے شوہر سے زمین خرید کر   اسی کو   دے کر کہا کہ تم اس زمین کو آباد کرنا اور اس سے جتنی پیداوار حاصل ہو، اس سے مجھے دو یا تین من دینا (اس زمین سے سات من پیداوار اگتی ہے) کیا یہ صورت جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں زمین آباد کرنے کے لیے دے کر اپنے لیے متعین پیداوار طے کرلینا شرعاً جائز نہیں، یا تو اپنی زمین اجرت پر بہنوئی کو دے دیں اور اجرت طے کرلیں، اس کے بعد بہنوئی اس میں محنت کرے نہ کرے اجرت اس کے ذمہ لازم ہوگی، یا پیداوار میں فیصد کے اعتبار سے اپنا حصہ مقرر کریں، مثلاً جتنی پیداوار ہو اس کا تیس یا چالیس فیصد اپنے لیے اور باقی بہنوئی کے لیے طے کرلیں، پھر جتنی بھی پیداوار ہو کم یا زیادہ اسی حساب سے تقسیم کرلی جائے۔

در مختار میں ہے :

"و ) بشرط ( الشركة في الخارج ) 
 ثم فرع على الأخير بقوله ( فتبطل إن شرط لأحدهما قفزان مسماة أو ما يخرج من موضع معين أو رفع)". (276/6 ط: سعید)
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144106200860
تاریخ16-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں