بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرنٹ اکاؤنٹ میں ٹرانزیکشن پر بینک کی طرف سے انعام

سوال

 کینیڈا میں ایک بینک نے یہ اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی کسٹمر دو ٹڑانزیکشن کرے گا تو اس کو تین سو ڈالر دیے جائیں گے، کیا سائل کے لیے یہ رقم لینا جائز ہے ؟ ملحوظ رہے کہ سائل کا مذکورہ بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ ہے، اور یاد رہے کہ بینک کا یہ اقدام کسٹمر میں اضافے کی غرض سے ہے!

جواب

کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھی ہوئی رقم کے علاوہ دیگر نفع وصول کرنا جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ نفع قرض کی وجہ سے ہے اور قرض کی وجہ سے حاصل ہونے والا نفع سود ہے جو کہ حرام اور جانائز ہے،  مزید یہ کہ بینک کے تحائف حلال مال سے نہیں ہوتے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 166):
"وفي الأشباه كلّ قرض جرّ نفعًا حرام".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144106200853
تاریخ15-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں