بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فیس بک پر تصویر لگانے یا دیکھنے کا حکم

سوال

کیا فیس بک پر کوئی تصویر دیکھنا یا لگانا جائز ہے؟

جواب

کسی شدید ضرورت کے بغیر جان دار  کی تصویر بنانا، کھنچوانا، یا استعمال کرنا ناجائز اور حرام ہے، اور اسی طر ح جان دار اشیاء  کی تصاویر  دیکھنا  بھی جائز نہیں ہے، تصویر  اگر عورت کی ہے یا اس میں کسی کا ستر واضح ہو تو  اس میں بد نظری   کا گناہ بھی ہوگا۔ اور اگر تصویر  عورت کی نہ ہو، اور اس میں کسی کا ستر  نظر نہ آرہا ہو  لیکن دیکھ کر فرحت یا لذت محسوس ہو تو بھی ناجائز ہے کہ حرام چیز کو دیکھ کر خوش ہونا بھی ناجائز ہے، اسی لیے تصاویر کو تلف کرنے کا حکم ہے۔البتہ اگر ارادے کے بغیر اس پر نگاہ پڑ جائے تو اس میں حرج نہیں، لہذا فیس بک پر تصاویر لگانا یا قصداً  تصویر دیکھنا جائز نہیں ہے، نیز  متعدد دینی،اخلاقی، اور شرعی مفاسد اور خرابیوں میں ابتلا کے قوی امکان کی وجہ سے فیس بک کے استعمال سے اجتناب بہتر ہے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144106200842
تاریخ15-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں