بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پانی کی خرید وفروخت کا حکم

سوال

میرا پانی سپلائی کا کام ہے،  میں بڑا ٹینکر خرید کر اپنے پلاٹ کی ٹنکی میں اس کا پانی ڈالوا کرپھر پانی کو چھوٹی گاڑی کے ذریعے محلہ کے گھر اور گودام وغیرہ میں فروخت کرتا ہوں،  کیا یہ کاروبار شرعی طور پر جائز ہے?

جواب

پانی خرید کر اپنے پلاٹ کی ٹنکی میں محفوظ کرنے کے بعد آگے فروخت کرنا شرعاً جائز ہے ۔

" إن صاحب البئر لایملك الماء ... و هذامادام في البئر، أما إذا أخرجه منها بالاحتیال، کمافي السواني فلاشك في ملکه له؛ لحیازته له في الکیزان، ثم صبه في البرك بعد حیازته".  (ردالمحتار ج : ۵،  کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، مطلب صاحب البئر لایملك الماء ص: ۶۷)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144106200816
تاریخ15-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں