بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سمع اللہ لمن حمدہ کی جگی سمی اللہ کہہ دیا

سوال

رکوع کی تسبیح ’’سمع‘‘ کو  سمي پڑھنے والے کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں نماز ہوگئی ہے، اعادہ کی ضرورت نہیں،  اس لیے کہ ’’سميّ‘‘ کے لغوی معنیٰ:  بلند و بالا، نام کے مطابق آتے ہیں،  تاہم آئندہ درست تلفظ کا خیال رکھا جائے، قصداً یا غفلت کی وجہ سے ایسے کہنا خلافِ سنت ہونے کی وجہ سے مکروہ ہوگا۔

السَّمِيُّ : (معجم الوسيط):

"السَّمِيُّ : المُسامي، وهو المطاولُ والمفاخِرُ. وسَمِيُّ الشيء: موافِقُه في اسمِه، أَو نظيرُهُ". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200814
تاریخ15-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں