بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تسبیحات فرائض کے بعد یا نوافل کے بعد

سوال

جو تسبیحات پڑھتے ہیں وہ فرض نماز کے بعد پڑھنی ہیں یا نفل کے بعد بھی پڑھنی ہیں؟

جواب

جن فرض نمازوں کے بعد سنن و نوافل ہوں، ان نمازوں میں سنن و نوافل کے بعد تسبیحات پڑھنی چاہییں، البتہ احادیثِ مبارکہ میں جو مختصر اَذکار وارد ہیں وہ (مختصر) سنتوں سے پہلے پڑھ سکتے ہیں۔ اور جن فرض نمازوں کے بعد سنن و نوافل نہیں ہیں ان میں فرض نماز کے بعد ہی تسبیحات پڑھ لینی چاہییں۔

فتاوی شامی میں ہے :

"إن كانت الصلاة بعدها سنة يكره وإلا فلا". [6/423] فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200773
تاریخ14-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں