بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فیئرویل سے بچے ہوئے پیسوں کو اسکول پر خرچ کرنا

سوال

اگر  ایک  سکول میں فیئرویل پارٹی (الوداعی تقریب) ہو  اور سکول انتظامیہ طلبہ  سے ایک مخصوص رقم پارٹی فنڈ کے طور پرلے، اگر پارٹی پر اس جمع شدہ رقم سے کم خرچ ہو تو  کیا باقی رقم ادارے کے لیے استعمال کرنا جائز ہوگی  یا واپس کرنا ضروری ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اصل تو یہ ہے کہ بقیہ رقم طلبہ کو دوبارہ لوٹا دی جائے،  تاہم اگر بالغ طلبہ کی اجازت ہو، نابالغ طلبہ کے والدین کی اجازت ہو  تو زائد رقم ادارے کے لیے استعمال کرنا جائز ہے۔ نیز یہ بھی ضروری ہے کہ یہ پیسے  طلبہ یا ان کے سرپرستوں نے طیبِ خاطر (خوش دلی) سے دیے ہوں، اگر  ان سے جبراً وصول کیے ہوں گے تو  اس کا استعمال بھی ناجائز ہے۔

صحيح البخاري (8 / 93):

"عن حكيم بن حزام، قال: سألت النبي صلى الله عليه وسلم فأعطاني، ثم سألته فأعطاني، ثم سألته فأعطاني، ثم قال: «هذا المال» - وربما قال سفيان: قال لي - «يا حكيم، إن هذا المال خضرة حلوة، فمن أخذه بطيب نفس بورك له فيه، ومن أخذه بإشراف نفس لم يبارك له فيه، وكان كالذي يأكل ولا يشبع، واليد العليا خير من اليد السفلى»."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144106200770
تاریخ14-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں