بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بلڈنگ کی بیسمنٹ میں مسجد

سوال

ایک بلڈنگ کی بیسمنٹ میں مسجد بنائی ہے ، کافی لوگوں کا اعتراض ہے کہ اس کو مسجد نہ کہیں مصلیٰ کہیں۔ راہ نمائی کیجیے!

جواب

کوئی جگہ مسجدِ شرعی اس وقت ہوتی ہے جب اسے نماز پڑھنے کے لیے مختص کردیا جائے، بندوں کا حق اس سے متعلق نہ رہے، ایسا کرنے کے بعد وہ جگہ تحت الثریٰ سے ثریا  تک یعنی زمین سے آسمان تک مسجدہوجاتی ہے، اس کے کسی حصہ  کو  نماز اور اس کےمتعلقہ امور کے علاوہ دوسرے کام میں استعمال کرنا جائز نہیں ہوتا۔

لہذا مذکورہ صورت میں یہ جگہ مسجدِ شرعی نہیں، بلکہ محض نماز کی جگہ اور مصلیٰ ہے۔

قال في الدر المختار:

"یزول ملکه عن المسجد والمصلی بالفعل و بقوله: جعلته مسجدًا، وفي القهستاني: ولابد من إفرازه أي تمییزه عن ملکه من جمیع الوجوه، فلو کان العلو مسجدًا والسفل حوانیت أوبالعکس لایزول ملکه؛ لتعلق حق العبد به". (شامی:۳/۴۰۵)

وقال أیضًا:

"إذا جعل سِرْدابًا لمصالحه جاز ولو جعل لغیرها أو جعل فوقه بیتًا وجعل باب المسجد إلی طریق وعزله عن ملکه لایکون مسجدًا". (شامی:۳/۴۰۶)

"کما لو جعل وسط داره مسجدًا وأذن للصلاة فیه حیث لایکون مسجدًا إلا إذا شرط الطریق"․ (شامی: ۳/۴۰۶) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200742
تاریخ13-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں