بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کو منہدم کرنا

سوال

ہماری   گلی میں مسجد ہے اس کو دس سال کا عرصہ ہوا ہے، مسجد کا محراب ہے منارے بھی ہیں، اس عرصہ میں اس میں باجماعت نماز بھی ہوتی رہی ہے، اب جس شخص نے مسجد تعمیر  کی تھی، وہ کہتا ہے: میں اس مسجد کو شہید کروں گا، میں نے اس وقت نیت نہیں کی تھی، اس نے مسجد کا بورڈ بھی لگایا ہوا ہے، کیا وہ ایسا کرسکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  کسی جگہ کے مسجد کے طور پر  وقف ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو  باقاعدہ  مسجد کے لیے وقف کیا جائے اور واقف یوں کہہ دے کہ میں نے یہ جگہ مسجد کے لیے وقف کر دی، ایسی مسجد کو تبدیل یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔

اور اگر مسجد بنانے والے نے مسجد بناتے وقت یہ صراحت کی تھی کہ اس جگہ کو عارضی طور پر مصلیٰ بنایا جا رہا ہے اور اس کو باقاعدہ مسجد کے طور پر وقف نہیں کیا جا رہا تو ایسی صورت میں اس کا یہ کہنا معتبر ہو گا اور  تعمیر کو ختم کرنا درست ہو گا۔

اس سلسلے میں بہتر ہو گا کہ واقف اور سائل دونوں فریق مشترکہ تحریری سوال کے ہم راہ دار الافتاء سے براہِ راست رجوع کر لیں۔

الفتاوى الهندية (2/ 352):
"فأما ركنه فالألفاظ الخاصة الدالة عليه، كذا في البحر الرائق". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200706
تاریخ12-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں