بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآنِ مجید کی بار بار جھوٹی قسم کھانے کا کفارہ

سوال

قرآن کی بار بار جھوٹی قسم کھانے کا کفارہ کیا ہے؟

جواب

قرآنِ کریم  کی قسم کھانے سے ویسے بھی  منع کیاگیاہے، پھر جھوٹی قسم کھانا یہ نہایت سخت گناہ ہے، اس پر صدقِ دل سے توبہ استغفار کرنا لازم ہے اور آئندہ اس سے  اجتناب کرنا ضروری ہے، سابقہ واقعات پر جھوٹی قسم کھانے کا کفارہ نہیں ہے، سچے دل سے توبہ کرنا ضروری ہے۔

باقی اگر مستقبل میں کسی کام کے کرنے یا رکنے کی قسم کھائی تھی اور پھر اس کے خلاف کیا تو  توبہ کے ساتھ ساتھ اس کے توڑنے کا کفارہ دینا  بھی ضروری ہوگا ، قسم  کے توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائے, چاہے تو  ہر مسکین کو ایک صدقۂ  فطر  کی مقدار (پونے دو سیر گندم یا اس کی قیمت) بھی دے سکتا ہے، یا  دس مسکینوں کو لباس پہنائے، اور ان دونوں صورتوں کی گنجائش نہ ہو تو تین دن مسلسل روزے رکھے۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200699
تاریخ12-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں