بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رجوع کی صورت میں تجدیدِ نکاح

سوال

زید نے طلاقِ رجعی میں دورانِ عدت رجوع بصورتِ تجدیدِ نکاح بمع حقِ مہر اور گواہان کیا۔ کیا اس عمل میں کوئی شرعی قباحت تو نہیں کی زید نے؟

جواب

رجوع کے لیے زبان سے کہہ دینا کہ میں نے اپنی بیوی سے رجوع کیا  یا بیوی جیسا معاملہ کرنا بھی کافی تھا،  تاہم تجدیدِ نکاح سے بھی رجوع ہوجائے گا شرعاً اس میں حرج نہیں ہے۔

البحرالرائق میں ہے:

’’وأما ركنها: فقول أو فعل، فالأول صريح وكناية، أما الأول: فراجعتك وراجعت امرأتي، وجمع بينهما ليفيد ما إذا كانت حاضرةً فخاطبها أو غائبةً، وارتجعتك ورجعتك ورددتك، وأمسكتك ومسكتك فيصير مراجعًا بلا نية، ومنه النكاح والتزوج. وأما الكناية: فنحو أنت عندي كما كنت أو أنت امرأتي فيتوقف على النية‘‘. (البحر الرائق:4/ 54) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200696
تاریخ12-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں