بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوسری شادی کرنے کے لیے بیوی کی اجازت لینا

سوال

کیا دوسری شادی کرنے کے لیے بیوی کی اجازت لینا یا اس کو آگاہ کرنا ضروری ہے؟

جواب

بیک وقت ایک سے زیادہ (چارتک) شادیوں کے لیے شرعاً اتنی بات ضروری ہے کہ شادی کرنے والا تمام بیویوں کے جسمانی ومالی حقوق ادا کرنے اور ان کے درمیان واجب حقوق میں برابری پر قدرت رکھتاہو۔ پہلی بیوی یا کسی سے اجازت لینا یا اسے اطلاع دینا شرعاً ضروری نہیں ہے۔تاہم بہتر یہ ہے کہ پہلی بیوی کو رضامند کرکے دوسری شادی کریں؛ تاکہ آئندہ کی زندگی میں سکون اور اطمینان ملے، اور دوسری شادی کامقصدپوری طرح  حاصل ہو۔  

﴿ فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَآءِ مَثْنٰی وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً﴾ [النساء: ۳]

ترجمہ: سو تم نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں دو، دو، تین تین، اور چار چار، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ برابری نہیں کرسکوگے تو ایک ہی عورت پر اکتفا کرو۔ فقط وﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200686
تاریخ12-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں