وکیل بنانے پر گواہ نہ بنائیں تو حکم
سوال
لڑکی نکاح میں وکیل بنانے پر دو گواہ نہ بنائے تو کیا اس وکالت سے نکاح ہو سکتا ہے؟
جواب
لڑکی کی توکیل (وکیل بنانے) پر اگردو گواہ نہ بنائے گئے ہوں تو بھی وہ توکیل ہوجائے گی، اور وہ وکیل نکاح کرادے تو منعقد ہو جائے گا۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 510):
"(وهو إقامة الغير مقام نفسه) ترفها أو عجزًا (في تصرف جائز معلوم". فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144106200673
تاریخ12-02-2020

