بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہزار روپے کے نوٹوں کی گڈی گیارہ سو میں خریدنے کا حکم

سوال

میری ڈیکوریشن کی دکان ہے، میں  بازار سے دس روپے کی گڈی جس میں ایک ہزار روپے ہوتے ہیں، گیارہ سو روپے کی لے کر آتا ہوں اور اس کا ہار بنا کر بیچتا ہوں کیا یہ عمل جائز ہے؟ 

جواب

روپے کے  بدلے  میں  روپے  کی  خرید و فروخت  پر کمی بیشی کرنا شرعاً  سود  ہونے  کی  وجہ  سے  ناجائز ہے؛ لہذا آپ کے لیے اس طرح لین دین کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔ البتہ اس معاملہ میں  جواز  کی صورت یہ ہوسکتی ہے  کہ  مثلاً : دس کے نوٹوں کی ہزار روپے کی گڈی بیچنے والا 98یا 99 یا 100 نوٹ اور اس کے ساتھ  کوئی  چیز   (خواہ معمولی قیمت کی ہو) ساتھ بیچے اور خریدار گیارہ سو میں خریدے تو  ایسی صورت  میں وہ زائد رقم اس دوسری چیز کے بدلہ میں ہوجائے گی۔

باقی آپ  کا نوٹوں کے ہار میں مزید کچھ  چیزوں کا اضافہ کرکے اس میں لگے نوٹوں سے زیادہ قیمت میں بیچنا جائز ہے ۔

"باب الصرف

عنونه بالباب لا بالكتاب؛ لأنه من أنواع البيع (هو) لغةً: الزيادة. وشرعًا: (بيع الثمن بالثمن) أي ما خلق للثمنية ومنه المصوغ (جنسًا بجنس أو بغير جنس) كذهب بفضة (ويشترط) عدم التأجيل والخيار و (التماثل)". (الدر مع الرد: ٥/ ٢٥٧)  فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200668
تاریخ12-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں