بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ویڈیو بیان یا نعت وغیرہ سننا

سوال

کیاوڈیو بیان یا نعت وغیرہ سننا جائز ہے؟

جواب

ویڈیو سازی یا تصویر سازی چاہے کسی بھی نوعیت کے جدید آلات سے ہو از روئے شرع ناجائز ہے، لہذا علماءِ کرام کے بیانات افادۂ عامہ کے لیے عام کرنا مقصود ہو تو ان کے بیانات ان کی (یا کسی بھی جان دار کی) متحرک یا ساکت تصاویر کے بغیر  (آڈیو) سنے جاسکتے ہیں، ویڈیو دیکھنا جائز نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200650
تاریخ11-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں