بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میراث میں انشورنس کی رقم ملنے کا حکم

سوال

میرے والد کے ڈی اے میں ملازمت کرتے تھے، 4 سال پہلے ریٹائرڈ ہوگئے تھے، اب ان کا انتقال ہوگیا، ملازمت کا حصہ تھا کہ تنخواہ سے ہر ماہ پراویڈنٹ فنڈ اور انشورنس کے پیسے کٹ جاتے تھے، اب اگر انشورنس ملے تو میرے لیے حلال ہے؟ انشورنس کے پیسے لازمی طور پر تنخواہ سے خود کٹ جاتے ہیں، یہ گورنمنٹ کی ملازمت پالیسی ہے۔

جواب

انشورنس کی ملنے والی رقم میں سے جو رقم سائل کے والد  نے جمع کروائی تھی اس کا استعمال تو جائز ہے،البتہ اس پر جو اضافی رقم ملی ہے وہ سود ہے، اس کا بلانیتِ ثواب کسی مستحقِ زکاۃ کو صدقہ کرنا لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200644
تاریخ11-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں