ورثاء میں بیٹا نہ ہو تو تقسیم کا کیا حکم ہے؟
سوال
میری والدہ الحمداللہ حیات ہیں، ایک بہن اور تین بھائی ہیں، بیوی اور تین بیٹیاں ہیں، کوئی بیٹا نہیں ۔ میرے مرنے کے بعد تر کے کی تقسیم کیسے ہو گی؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں سائل کی موت تک اگر اس کا کوئی بیٹا پیدا نہ ہوا ، اور زندہ وارثوں میں ماں، بیوہ، بیٹیاں، اور ایک بہن اور تین بھائی حیات رہے تو اس صورت میں ماں کو کل ترکہ کا چھٹا حصہ (16.66٪)، اور کل کا آٹھواں حصہ (12.5%)بیوہ کو، اور کل ترکہ کا دو تہائی (66.66%) بیٹیوں کو ملے گا، اس کے بعد جو کچھ بچے گا وہ بہن اور بھائیوں میں ایک اور آدھے کے تناسب سے تقسیم کر دیا جائے گا۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

