بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وقف اور مسجدِ شرعی

سوال

اگر کوئی شخص مسجد کے لیے جگہ وقف کر دے یا متولی مسجد کے لیے جگہ خریدے تو صرف اس جگہ کو خریدنے یا وقف کرنے سے یہ جگہ مسجدِ شرعی بن جائے گی یا اس جگہ میں باقاعدہ نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا مسجدبننے کے لیے لازمی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مسجد کے لیے جگہ وقف کرنے یا متولی کے مسجد کے لیے جگہ خریدنے سے وہ جگہ وقف ہوجائے گی، البتہ مسجدِ شرعی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس جگہ پر باقاعدہ مسجد بنائی جائے یا اس جگہ میں باجماعت نماز شروع کی جائے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"اعلم أن المسجد يخالف سائر الأوقاف في عدم اشتراط التسليم إلى المتولي ... إذا قال: جعلته مسجدًا فالعرف قاض وماض بزواله عن ملكه أيضًا غير متوقف على القضاء، وهذا هو الذي ينبغي أن لايتردد فيه". (كتاب الوقف، ج: 4، ص: 355، ط: سعيد)

وفيه أيضًا:

"وفي الذخيرة: وبالصلاة بجماعة يقع التسليم بلا خلاف، حتى إنه إذا بنى مسجدًا وأذن للناس بالصلاة فيه جماعةً فإنه يصير مسجدًا". (ج: 4، ص: 356، ط: سعيد) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144106200558
تاریخ09-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں