طلاق معلق کا وقوع شرط کے پائے جانے کے ساتھ ہوجاتا ہے
سوال
ایک شخص نے طلاق کو شرط کے ساتھ معلق کیا، پھر وہ شرط پائی گئی، تو اب کیا حکم ہے؟ ملحوظ رہے کہ صریح الفاظ کے ساتھ معلق کیا تھا۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں شرط پائی جانے کے ساتھ ہی معلق طلاق واقع ہوجائے گی، اور جتنی طلاقیں معلق کی ہوں اتنی ہی واقع ہوں گی، پس اگر ایک معلق کی تھی تو ایک، دو کی تھیں تو دو، اور اگر تین کی تھیں تو تینوں واقع ہوجائیں گی، اور اس صورت میں بیوی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ اپنے شوہر پر حرام ہو جائے گی، نہ رجوع جائز ہو گا اور نہ ہی تجدیدِ نکاح کی اجازت ہوگی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإذا أضافه الی الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقاً ". ( ١/٤٢٠ ط : رشیدیه) فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

