بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ادارے کے قوانین کی شرعی حیثیت

سوال

ادارے کے قوانین کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ مثلاً ادارے کی طرف سے آنے جانے کا طے شدہ وقت۔  اور ان قوانین میں کمی کی صورت میں کیا حکم ہے؟

جواب

کسی ملازم کے لیے اس کے ادارے کے قوانین جن کو وہ تسلیم کرکے ملازم بنا ہے، اس کے لیے معاہدے کا درجہ رکھتے ہیں، جیسا کہ اوقاتِ کار وغیرہ۔ جن کی پابندی اس پر  شرعاً لازم ہے،بشرطیکہ ان قواعد میں سے کوئی قرآن و حدیث کے مخالف نہ ہو، ایسی صورت میں ملازم پر اس کی پابندی لازم نہ ہوگی۔

"المسلمون على شروطهم". (رواه الترمذي في (الأحكام) باب ما ذكر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلح برقم(1352) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200539
تاریخ09-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں