بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلبہ سے چندہ جمع کرکے دعوت کرنا

سوال

مدارس کےطلباء و طالبات سے چندہ لے کر سال کے آخرمیں مختلف پروگرام  کر کے ان پیسوں سے مہمانوں کو کھانا کھلانا کیسا ہے جب کہ مدارس کے اکثر طلباء و طالبات نادار ہوتے ہیں.اس کھانے کا کیاحکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں محض ترغیب دینے پر اگر طلبہ اپنی رضامندی سے، بغیر کسی جبر و اکراہ  کے چندہ دیتے ہوں، اور چندہ بالکل نہ دینے والوں یا کم دینے والوں پر کسی قسم کی ملامت نہ کی جاتی ہو تو ایسی صورت میں جمع شدہ رقم سے مہمانوں کا اکرام کرنا جائز ہوگا، بصورتِ دیگر جائز نہ ہوگا۔

نیز اس قسم کے پروگاموں کا بوجھ طلبہ پر ڈالنے سے اجتناب ہی بہتر ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144106200530
تاریخ09-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں