بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رشوت یا سفارش کے ذریعہ نوکری کا حصول

سوال

کسی شخص نے رشوت دے کر یا ناجائز سفارش کے ذریعے ملازمت حاصل کی تو اس کی کمائی کا حکم ہوگا؟

جواب

رشوت لینے اور دینے والے پر حضورِ اکرم ﷺ نے لعنت  فرمائی ہے، نیز شرعی حدود کا خیال رکھتے ہوئے کسی حق دار کو اس کاحق دلانے کی جائزسفارش کرنا تو اجروثواب کا باعث ہے، لیکن اہلیت نہ ہو تو سفارش کرنا گناہ کا باعث ہے، لہذا  رشوت لینا اور دینا نیز نا جائز سفارش کرنا دونوں عمل ناجائز ہیں،  بغیر استحقاق و اہلیت کے محض رشوت /ناجائز سفارش کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرنا بھی ناجائز ہے۔

البتہ اگر کوئی شخص نوکری کا اہل بھی ہو اور مستحق بھی ہو  اوروہ سفارش کے ذریعہ نوکری حاصل کرلے تو اس میں کوئی گناہ کی بات نہیں ہے، اور متعلقہ ذمہ داریاں اگر امانت داری کے ساتھ بحسن و خوبی انجام دیتاہے تو تنخواہ بھی حلال ہوگی۔

البتہ اگر اہلیت اور استحقاق کے باوجود رشوت دے کر نوکری حاصل کی تو رشوت دینے کا عمل بہرحال ناجائز اور گناہ ہوگا، لیکن اس ملازمت سے متعلقہ امور کی دیانت دارانہ انجام دہی پر تنخواہ حلال ہوگی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144106200505
تاریخ08-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں