بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح میں وکیل سے پوچھا نہیں کہ لڑکی نے اجازت دی ہے یا نہیں؟

سوال

نکاح کے موقع پر قاضی نے وکیل سے یہ نہیں پوچھا کہ لڑکی نے اجازت دی ہے کہ نہیں؟  قاضی نے صرف اتنا پوچھا کہ وکیل کون ہے؟ گواہ کون ہے؟ اور وکیل نے لڑکی سے اجازت لی ہے، گواہوں نے سنا بھی ہے اس سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے؟ اور جب لڑکی کو پتا چلا کہ نکاح ہوگیا تو اس نے خوشی سے شکر الحمد اللہ کہا،  اس سے نکاح منعقد ہو جا تا ہے؟

جواب

اگر ایجاب  کے موقع پرقاضی نے  وکیل سے یہ نہیں پوچھا  کہ لڑکی سے اجازت لی ہے یا نہیں، لیکن وکیل نے لڑکی سے اجازت  لے لی تھی اور قاضی نے لڑکی کے وکیل اور لڑکے سے ایجاب و قبول کروالیا تھا تو نکاح منعقد ہوچکا ہے اور اگر وکیل نے لڑکی سے اجازت نہیں لی تھی ، قاضی نےایجاب و قبول کروالیا ،تاہم نکاح کے بعد لڑکی نے اجازت دے دی  یا خوشی سے ’’الحمدللہ‘‘  کہہ دیا تو  نکاح منعقد ہوجائے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (3 / 97):

"(ونكاح عبد وأمة بغير إذن السيد موقوف) على الإجازة (كنكاح الفضولي) سيجيء في البيوع توقف عقوده كلها إن لها مجيز حالة العقد ولا تبطل". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200500
تاریخ08-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں