بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسلمان شخص ہندو کی حفاظت کے دوران قتل ہوجائے

سوال

ایک مسلمان کسی ہندو  کی سکیورٹی پر مامور تھا، اور دورانِ  ڈیوٹی حملہ آوروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگیا۔ کیا اس کو شہید کہا جا سکتاہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ مسلم شخص شرعاً شہید کے حکم میں ہے، اگر موقع پر ہی دم توڑدے تو دنیاوی اَحکام میں بھی شہید ہوگا، یعنی غسل دیے بغیر، (اسلحہ اور جیکٹ وغیرہ اتارکر)  پہنے ہوئے لباس میں دفنایا جائے گا ۔

وفي الدر المختار للحصکفي:

"(وكذا) يكون شهيدًا (لو قتله باغ أو حربي أو قاطع طريق ولو) تسبباً أو (بغير آلة جارحة) فإن مقتولهم شهيد ... الخ"

وفي ر د المحتار لابن عابدین:

"(قوله: وكذا يكون شهيدًا إلخ) .........من قتل مدافعًا ولو عن ذمي فإنه شهيد بأي آلة قتل .....الخ" (كتاب الصلاة،باب الشهيد،ج:۲،ص:۲۴۹،ط:سعید) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200497
تاریخ08-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں