ہندوانہ طریقہ پر شادی کے موقع پر آگ کے گرد سات چکر لگانا
سوال
ایک شخص مسلمان ہوا ،اور مسلم لڑکی سے شادی کی۔نو مسلم نوجوان کے گھر والوں نے لڑکے کو اپنے پاس رکھ لیا ،اور ان دونوں سے کہاکہ:آپ نے مسلمانوں کے طریقہ پر نکاح کیا ہے ،لیکن ہم ہندو ہیں اور ہماری برادری بھی ہندو ہے،لہذا برادری کا منہ بند کروانےکے لیے ایک مرتبہ ہندوؤانہ طریقہ پر نکاح کرو،اور آگ کے سات پھیرے لگاؤ۔
ان دونوں نے دوبارہ ہندؤانہ طریقہ پر نکاح کرلیا۔
سوال یہ ہے کہ مذکورہ مسئلہ میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیا ان کا نکاح باقی ہے یا ختم ہوگیا ہے؟ کیا وہ دونوں گناہ گار ہوں گے ؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ دونوں افراد کے لیے سچے دل سے اپنے کیے پر توبہ و استغفار کرتے ہوئے تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح دونوں کرنا لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

