بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہندوانہ طریقہ پر شادی کے موقع پر آگ کے گرد سات چکر لگانا

سوال

ایک شخص مسلمان ہوا ،اور مسلم لڑکی سے شادی کی۔نو مسلم نوجوان کے گھر والوں نے لڑکے کو اپنے پاس رکھ لیا ،اور ان دونوں سے کہاکہ:آپ نے مسلمانوں کے طریقہ پر نکاح کیا ہے ،لیکن ہم ہندو ہیں اور ہماری برادری بھی ہندو ہے،لہذا برادری کا منہ بند کروانےکے لیے ایک مرتبہ ہندوؤانہ طریقہ پر نکاح کرو،اور آگ کے سات پھیرے لگاؤ۔

ان دونوں نے دوبارہ ہندؤانہ طریقہ پر نکاح کرلیا۔

سوال یہ ہے کہ مذکورہ مسئلہ میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیا ان کا نکاح باقی ہے یا ختم ہوگیا ہے؟ کیا وہ دونوں گناہ گار ہوں گے ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ دونوں افراد کے  لیے سچے دل سے اپنے کیے پر توبہ و استغفار کرتے ہوئے تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ  نکاح دونوں کرنا لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200492
تاریخ08-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں