بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گیارہوں شریف کی شرعی حیثیت

سوال

کسی عامل کے کہنے پر گیارہویں شریف کو کھانا پکا کر محلے میں لوگوں کو کھلانا جائز ہے، ہر قمری گیارہ تاریخ کو؟  اور گیارہویں کے بارے  میں راہ نمائی فرمائیں کہ اس کا کیا عقیدہ ہے؟

جواب

ہر ماہ کے گیارہویں روز بعض لوگوں کے ہاں کھانا بنانے کا اہتمام کیا جاتاہے، اور غوثِ اعظم کی نیاز کے نام سے ایصالِ ثواب کیا جاتا ہے، یہ کھانا اگر پیرانِ پیر  کی ہی نذر کے طور پر ہو تو حرام اور غیر اللہ کے نام کی قربانی میں شامل ہے۔ اور اگر صرف ایصالِ ثواب مقصد ہو تو یہ کھانا حرام نہیں ہو گا، لیکن خاص گیارہویں تاریخ کا تعین کر کے کھلانا اور اس کا التزام کرنابدعت اور ناجائز ہے۔(بہشتی زیور- امدادالمفتین : ۲/۱۷۵)

کسی کے کہنے پر گیارہویں کا کھانا بنانا اور اسے تقسیم کرنا درست نہیں ہے، اس سے اجتناب کیا جائے، اور اگر کوئی بھیج دے تو ایساکھانا خود کھانے کےبجائے کسی مستحق کو دے دیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200483
تاریخ08-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں