بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زوجین میں سے کسی کے انتقال پر دوسرا اسے غسل دے سکتا ہے؟

سوال

میاں بیوی میں سے کسی ایک کے انتقال کی صورت میں دوسرا غسل دے سکتا ہے، خاص کر جب عورت کا انتقال ہو جائے، تب مرد غسل دے سکتا ہے یا نہیں؟ عورت کو دیکھ سکتا ہے یا نہیں؟ اور ان کا تعلق فوراً ختم ہو جاتا ہے یا نہیں؟

جواب

شوہر کے لیے اپنی بیوی کا چہرہ مرنے کے بعد دیکھنا جائز ہے، البتہ اسے چھونا اور غسل دینا منع ہے، اور بیوی اپنے شوہر کے مرنے بعد اسے دیکھ بھی سکتی ہے اور غسل بھی دے سکتی ہے، نیز بیوی کے انتقال کی صورت میں نکاح کا تعلق فوراً ختم ہوجاتا ہے اور شوہر کے انتقال کی صورت میں عدت گزرنے تک تعلق برقرار رہتا ہے۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار (2 / 198):
"(ويمنع زوجها من غسلها ومسها لا من النظر إليها على الأصح ) منية ... ( وهي لاتمنع من ذلك)". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200476
تاریخ07-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں