بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ساس کا داماد کے ساتھ اور سالی کا بہنوئی کے ساتھ عمرہ پر جانا

سوال

میں اپنی بیٹی دامادکے ساتھ عمرہ کرنا چاہتی ہوں اور اپنی غیرشادی شدہ بیٹی کو ساتھ لے جانا چاہتی ہوں۔ جس کی عمر 33سال ہے۔میں اپنی بیٹی کے ساتھ ہی رہتی ہوں۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں آپ کے داماد  آپ کے لیے محرم ہیں، آپ ان کے ساتھ عمرہ کے سفر پر جاسکتی ہیں، لیکن آپ کی غیر شادی شدہ بیٹی کے لیے وہ محرم نہیں ہے، اور عورت کے لیےشرعی مسافتِ سفر یا اس سے زیادہ طویل سفر  اپنے شوہر  یا کسی محرم کے بغیر کرنا جائز نہیں ہے، حدیثِ مبارک  میں اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے، لہذا آپ کی بیٹی کا (اپنے بہنوئی) آپ کے داماد کے ساتھ عمرہ پر جانا جائز نہیں ہے۔

مزید تفصیل کے لیے  درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتوی ملاحظہ فرمائیں:

عورت کے لیے محرم کے بغیر حج یا عمرہ کا سفر کرنا

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200471
تاریخ07-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں