بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرے ہوئے بیٹے کی قسم کھاکر اسے توڑنے کا حکم

سوال

اگر کوئی شخص اپنے مرے ہوئے بچے کی قسم کھائے کہ فلاں کام نہیں کروں گا اور بعد میں اس سے ہو جائے، اس کے لیے کیا حکم ہے?

جواب

بلاضرورت قسم کھانا کوئی پسندیدہ عمل نہیں ہے، اگر کوئی ضرورت یا مجبوری ہو تو صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کے ذاتی یا صفاتی نام کی ہی قسم اٹھانا جائز ہے، غیراللہ کی قسم کھانا درست نہیں ہے،  احادیثِ مبارکہ میں غیراللہ کی قسم اٹھانے سے منع کیا گیا ہے، اگر کوئی شخص غیر اللہ کی قسم اٹھا لے تو وہ قسم درست ہی نہیں ہوتی اور  ایسی قسم توڑنے کی صورت میں کوئی کفارہ بھی لازم نہیں ہوتا، تاہم غیر اللہ کی قسم کھانے پر توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 712):
"(لا) يقسم (بغير الله تعالى كالنبي والقرآن والكعبة).

(قوله: لايقسم بغير الله تعالى) عطف على قوله والقسم بالله تعالى: أي لاينعقد القسم بغيره تعالى أي غير أسمائه وصفاته ولو بطريق الكناية كما مر، بل يحرم كما في القهستاني، بل يخاف منه الكفر في نحو وحياتي وحياتك كما يأتي". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200458
تاریخ07-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں