بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 ربیع الثانی 1448ھ 10 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سنیوں کے قبرستان میں شیعہ کی تدفین

سوال

سنیوں کا ایک قبرستان ہے جس کا انتظام کورٹ کی طرف سے ’’جان فاؤنڈیشن‘‘  نامی ایک کمپنی کو سپرد کیا گیا ہے .اس قبرستان میں مسلمانوں کے علاوہ غیر سنی مثلاً شیعہ وغیرہ فرقے  کا کوئی مردہ دفن کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟  اگر مندرجہ بالا کمیٹی اس کی اجازت دیتی ہو تو جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر شیعہ کے عقائد کفریہ ہوں تو  اُسے سنی مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانا جائز نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية (1 / 159):
"وإن كانت الغلبة للمشركين فإنه لايصلى على الكل، ولكن يغسلون ويكفنون ولكن على وجه غسل موتى المسلمين وتكفينهم، ويدفنون في مقابر المشركين".
 فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

شیعہ کا جنازہ پڑھنے یا پڑھانے کا حکم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200427
تاریخ06-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں