بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرحومہ کے بھتیجوں کے لیے میراث

سوال

ایک عورت کا انتقال ہوا اور اس کے اصول اور فروع میں کوئی نہیں ہیں، نا ہی اس کا شوہر اور اولاد ہے۔ نہ ہی اس کی بہن ہے۔ اب وراثت تو بھائی کی طرف جائے گی۔ پوچھنا یہ تھا کہ جو اس کے بھائی اس کے انتقال سے پہلے انتقال کر گئے (ان کی اولاد کو)اس عورت کی وراثت سے کچھ ملے گا؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر مرحومہ کی وفات کے وقت اس کا کوئی بھائی زندہ ہو تو جو بھائی مرحومہ  سے پہلے انتقال کرگئے ان کا یا ان کی اولاد کا مرحومہ کی وراثت میں سے کچھ حصہ نہیں ہوگا۔

"ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف: جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل". (فتاوی شامی، ۶/۷۷۴، سعید)

"وللإرث شروط ثلاثة … ثانيها: تحقق حياة الوارث بعد موت المورث". (الموسوعة الفقهية الکویتية ، 3 / 22، دار السلاسل) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200426
تاریخ06-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں