بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کسی مدرسہ میں پڑھانے سے منع کرے تو ان کی بات ماننا لازم ہے

سوال

ایک مولوی صاحب نےاپنے والد صاحب کے مشورہ سے ایک مدرسہ میں 2سال پڑھایا ۔بعد میں کچھ ناراضی  کی صورت میں والد صاحب نےاسی مدرسہ میں تدریس سے منع کیا،مولوی صاحب جس کی عمر 42 سال ہے نے بہت کوشش کی کہ کہیں اور دل لگ جائے تدریس میں، لیکن کسی اور جگہ تدریس میں دل نہیں لگ رہا۔ پریشانی کی وجہ سے شوگر بھی ہوگئی ہے، والدصاحب کی ناراضی کےباوجود مولوی صاحب کے لیے اسی مدرسہ تدریس کرنا جائز ہے؟

جواب

مذکورہ مولوی صاحب کا اس مدرسہ پڑھانا ایک امر مباح ہے، مباحات میں والدین کے حکم کی تعمیل واجب ہے، اس لیے اگر مولوی صاحب کے والدِ محترم اس مدرسہ میں تدریس سے منع کررہے ہیں تو والد کے حکم کی تعممیل کریں اور اس مدرسہ میں نہ پڑھائیں، یا والدِ محترم کو راضی کرکے ان کی بخوشی اجازت سے پڑھائیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200420
تاریخ06-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں