بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پسند کا کھانا کھانے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا حدیث کی تحقیق

سوال

کیا اس طرح کی کوئی حدیث ہے کہ : ’’جس شخص نے اپنے پسند کا کھایا اور نرم بستر پر سویا ۔۔۔ وہ جنت کی خوش بو تک نہیں پائے گا‘‘؟ 

جواب

اس طرح کی حدیث کسی معتبر  کتاب میں ہمیں نہیں مل سکی۔

اللہ تعالیٰ نے حلال رزق کی صورت میں پسندیدہ کھانا کھانے سے منع نہیں فرمایا، بلکہ قرآنِ مجید میں اللہ پاک نے اپنی بہت سی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے، جن میں کھانے کی اشیاء، گوشت اور پھل وغیرہ بھی داخل ہیں، ان میں لذیذ اور بہترین اشیاء کا ذکر فرمانے کے بعد  حکمِ خداوندی ہے کہ یہ پاکیزہ روزی کھاؤ اور اسراف نہ کرو، اور بعض جگہ فرمایا کہ یہ پاک چیزیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ نیز چاہت کے پورے ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعائیں منقول ہیں، ایک حدیث میں یہ بھی وارد ہے کہ اللہ پاک پسند فرماتے ہیں کہ اس کی نعمت کا اثر بندے پر ہو۔ ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: ۔۔۔ جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال دیا ہے تو اللہ کی نعمت اور اس کے احسان کا تم پر اثر نظر آنا چاہیے۔ اگرچہ مذکورہ حدیث نفیس اور اچھے لباس پہننے کے حوالے سے وارد ہوئی ہے، لیکن پہلی روایت کے عموم سے معلوم ہوا کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو وسعت کے ساتھ حلال مال عطا فرمائیں اور وہ اللہ پاک کی عمدہ اور پاکیزہ نعمتیں استعمال کرے، اس میں اسراف اور ریا، نمود، فخر و مباہات وغیرہ ممنوعات سے اجتناب کرے اور اس کے بعد شکر ادا کرے تو یہ دخولِ جنت سے مانع نہیں، بلکہ شکر  کی وجہ سے درجات کی بلندی کا باعث ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے سے اس بات پر راضی ہوجاتے ہیں کہ وہ ایک لقمہ کھاکر یا ایک گھونٹ پانی پی کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200391
تاریخ05-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں