بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عبد الرحمن یا عبد الرزاق نامی شخص کو صرف رحمن یا رزاق کہہ کر پکارنا

سوال

اگر ’’عبد الرحمن‘‘ یا ’’عبد الرزاق‘‘  جیسے نام بغیر ’’عبد‘‘ کے استعمال کیے جائیں تو  گناہ سننے والے اور کہنے والے دونوں کو ہوگا؟ نیز کیا اس کا شمار صغیرہ گناہ میں ہوگا؟

جواب

اگر کسی شخص کا نام مثلاً ’’عبد الرحمن‘‘ یا ’’عبد الرزاق‘‘ ہو  یعنی اللہ تعالیٰ کے ایسے صفاتی ناموں پر مشتمل ہو جن کا استعمال غیراللہ کے لیے نہ کیا جا سکتا ہو  تو اس نام کے ساتھ ’’عبد‘‘  لگانا ضروری ہے، اگر کوئی شخص نہ لگائے تو وہ گناہ کا مرتکب ہو گا۔ اس کے متعلق  مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’ایسا کرنا گناہِ کبیرہ ہے،  جتنی مرتبہ یہ لفظ پکارا جاتا ہے اتنی ہی مرتبہ گناہِ کبیرہ کا ارتکاب ہوتا ہے اور سننے والا بھی گناہ سے خالی نہیں ہوتا‘‘۔ (تفسیر معارف القرآن، تفسیر آیت ۱۸۰،ص ۱۳۲، ج ۴)

اگر سننے والا اس طرح پکارے جانے پر راضی نہ ہو تو سننے والا گناہ گار نہ ہو گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200355
تاریخ04-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں