بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، ایک بیٹے اور دو بیٹیوں میں وراثت کی تقسیم

سوال

والد کا انتقال ہوچکا ہے ،انہوں نےزمین 1382فٹ چھوڑی ہے ،ورثاء میں دو بیٹیاں ، ایک بیٹا اور ایک بیوہ ہے۔تقسیم مطلوب ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں والد مرحوم کے کل ترکہ کو 32حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے 4حصے مرحوم کی بیوہ کو ،14 حصے مرحوم کے بیٹے کو اور 7.7حصے ہر ایک بیٹی کو  دیے جائیں گے۔ یعنی فی صد کے اعتبار سے 12.5% بیوہ کو، 21.87% ہر ایک بیٹی کو اور 43.75% بیٹے کو ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200335
تاریخ04-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں