بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جُمادى الأولى 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر طلاق یا خلع پر راضی نہ ہو تو عورت کیا کرے؟

سوال

آپ کا جواب موصول ہوا، اس کے لیے شکریہ!  فتوی  نمبر 144106200222 مضمون: عدالتی خلع/خلع کے  بعد رجوع

اگر اس طرح علیحدگی نہیں ہوئی تو بیوی اب بھی اس کے ساتھ نہیں رہنا  چاہتی؛ کیوں کہ عرصہ 8 سال سے خاوند نے اس سے کوئی رابطہ نہیں کیا، اسی دوران بیوی نے عدالت کے ذریعے خلع لے لی تھی، اب خاوند دوبارہ اکھٹے  ہونا چاہتا ہے، لیکن بیوی نہیں چاہتی، اور خاوند کہتا ہے کہ میں نے پیپر سائن نہیں کیے، دونوں کی ایک 12 سال کی بیٹی بھی ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ بیوی کیسے علیحدگی اختیار کر سکتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر اپنی کوتاہیوں کی تلافی کی یقین دیہانی کراتا ہو، تو ایسی صورت میں مذکورہ خاتون کو گھر بسانے کے لیے ایک کوشش ضرور کرنی چاہیے، پس اگر یہ کوشش بھی ناکام ہو، اور ظلم و زیادتی شوہر کی جانب سے ہو، بیوی کو نان و نفقہ نہ دیتا ہو، یا ظلم مار پیٹ کرتا ہو، اور طلاق یا خلع  دینے پر بھی راضی نہ ہو ، تو ایسی صورت میں مذکورہ خاتون تنسیخ نکاح کے لیے عدالت سے رجوع کر سکتی ہے، البتہ اسے معبتر گواہوں کے ذریعہ سے شوہر کے ظلم کو ثابت کرنا ضروری ہوگا، تمام ثبوت کی فراہمی کے بعد  عدالت اگر تنسیخ نکاح کا فیصلہ کرتی ہے، تو ایسی صورت میں شوہر کی رضامندی کے بغیر بھی تنسیخ کا فیصلہ شرعاً معتبر ہوگا، ملحوظ رہے کہ  تنسیخِ  نکاح کے حوالے سے خاتون کو اپنے شوہر  کے گھر جانا ضروری ہے، جائے بغیر وہ تنسیخِ  نکاح کے لیے عدالت سے رجوع کی شرعاً اہل نہ ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144106200330
تاریخ04-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں