بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مقروض بھائی خوشی سے قرض خواہ بھائی کو تحفہ دے

سوال

 زید اور بکر سگے بھائی ہیں، زید بکر کو 10 لاکھ قرضِ حسنہ غیر مشروط اور بغیر کسی منافع کی طمع کے ایک سال کے لیے دے دیتا ہے، بکر کا سونے کی تجارت کا کام ہے وہ بغیر مانگے اپنے سگے بھائی کو مہینے بعد کچھ غیرمتعین رقم مثلاً 20 ہزار یا 30 ہزار زید کو بطورِ ہدیہ احساناً دے دیتا ہے، کیا اس طرح کرنا بکر کے لیے جائز ہوگا؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر بکر اپنے بھائی کو برضا و خوشی 20 یا تیس ہزار  بطورِ تحفہ دیتا ہے تو شرعاً اس کی ممانعت نہیں۔  لیکن اگر ’’مہینے بعد کچھ غیرمتعین رقم ‘‘ دینے سے مراد یہ ہے کہ  قرض دینے کے بعد ہر مہینے بطورِ ہدیہ یہ رقم دیتاہے، تو ظاہر ہے کہ یہ ہدیہ قرض کی وجہ سے دیتاہے، اس صورت میں اجتناب کرنا چاہیے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144106200324
تاریخ04-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں