بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ارویٰ/ عروہ نام رکھنا

سوال

" اروہ"  یا  "عروا"  نام رکھنا کیسا ہے؟  اور اس کے معنی کیا ہیں؟

جواب

آپ سے مذکورہ دونوں نام کے تلفظ میں غلطی ہوگئی ہے، درست تلفظ یوں ہے:

1- اَرویٰ  (أَرْوٰى)۔ ہمزہ پر زبر، راء پر جزم اور واو پر کھڑا زبر پڑھا جائے گا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی والدہ اور کئی صحابیات رضی اللہ عنہن کا نام " ارویٰ " تھا، اس نسبت سے اچھا نام ہے، لڑکی کا نام رکھ سکتے ہیں۔ 

2- عُروہ۔ (عُرْوَه)، اس  کے معنی ہیں:  قابلِ اعتماد چیز ، حلقہ، ذریعہ اتحاد۔ "عروہ" نام رکھنا درست ہے۔ یہ نام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعینِ کرام رحمہم اللہ کے ناموں میں سے بھی ہے،فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200321
تاریخ04-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں