بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ختمِ جلالی

سوال

ہمارے  یہاں ’’ختم جلالی‘‘  کے  نام سے ایک معمول جاری ہے،  جس کا طریقہ یہ ہے کہ زعفران کی سیاہی سے کاغذ پر سوا لاکھ مرتبہ لفظ اللہ لکھاجاتاہے،  اس کے بعد ہر ایک لفظ کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے آٹے کی گولی بناکر (بناتے وقت سب مل کر دعاءِ یونس پڑھتے ہیں) اس کو  دھوپ میں سوکھا کر سمندر میں مچھلی کی خوراک کی حیثیت سے ڈالا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ مصائب سے نجات پانے کے لیے عمل کرکے دعا کراتے ہیں۔ اس عمل کی شرعی حیثیت کیا ہیں؟ دلائل سے وضاحت  کیجیے؟ 

جواب

ختمِ مذکور کسی نص سے ثابت نہیں ہے، کسی پیر یا عامل کا جاری کردہ ہو گا، اس عمل میں لفظِ ’’الله‘‘  لکھ  کر مچھلی کی خوراک کے طور پر اسے ڈالنا پایا جاتاہے، جس میں اللہ تعالیٰ کے نامِ گرامی کی بے ادبی معلوم ہوتی ہے، اس لیے یہ عمل قابلِ ترک ہے۔

اگر  کوئی شخص کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے تو  مطلقاً صدقہ یا محض آیتِ کریمہ یا حَسْبِيَ الله وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ نِعْمَ الْمَوْلی وَ نِعْمَ النَّصِیْر پڑھنا بھی مفید ثابت ہو گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200297
تاریخ03-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں