بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شازل نام رکھنا

سوال

میں اپنے بیٹے کا نام ’’شازل‘‘ رکھنا چاہتا ہوں. کیا یہ درست ہے؟

جواب

اس نام کے معنی لغت میں نہ ملے۔ بچوں کے نام رکھنے کے متعلق  بہتر صورت یہ ہے کہ  انبیاء  کرام علیہمُ السلام ، صحابہ رضی اللہ عنہم  اور امت کے اکابر واسلاف کے ناموں کو اختیار کیا جائے۔لہذا یہ نام رکھنا مناسب نہیں۔

تاج العروس:

"شَاذِلٌ كصَاحِبٍ أَهْمَلَهُ الجَوْهَرِيِّ وصاحِب اللِّسانِ وقالَ الصَّاغَانِيُّ: هو عَلَمٌ والذَّالُ مُعْجَمَةٌ. وشَهْرَانُ هكذا في النَّسَخِ والصَّوَابُ : سَهْرَابُ بْنُ شَاذِلٍ كما في التَّبْصِيرِ مِنْ أَجْدادِ مَكْحُولٍ قالَ الحَافِظُ : سَهْرَابُ هو أبو مُسْلِمٍ والِدُ مَكْحُولٍ كَذا في الإِكْمالِ فهو مَكْحُولُ بنُ مُسْلِمِ بنِ سَهْرَابَ بنِ شَاذِلٍ . وشَيْذَلَهْ كحَيْدَرَةَ لَقَبُ عُزَيْزِي بْنِ عَبْدِ المَلِكِ الْفَقِيهِ الشَّافِعِيِّ تَرْجَمَهُ السُّبْكِيُّ في الطَّبَقَاتِ وقالَ : كانَ وَاعِظاً مَشْهُوراً غيرَ أَنَّهُ ضَبَطَهُ بالدَّالِ المَهْمَلَةِ". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200269
تاریخ03-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں