بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سجدہ سہو کرنا بھول گیا اور وقت گزر گیا

سوال

مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے کسی شخص نے سجدہ سہو نہیں کیا تو نماز واجب الاعادہ فی الوقت ہے یا مطلقاً واجب الاعادہ  ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص سجدۂ  سہو  کرنا بھول جائے تو ایسی نماز کا وقت  کے اندر اندر اعادہ کرنا واجب ہے، اگر اس نماز کا وقت گزرجائے تو اعادہ واجب نہیں رہتا، البتہ مندوب ہے۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 247):
"وإعادتها بتركه عمداً" أي ما دام الوقت باقياً وكذا في السهو إن لم يسجد له وإن لم يعدها حتى خرج الوقت تسقط مع النقصان وكراهة التحريم ويكون فاسقاً آثماً، وكذا الحكم في كل صلاة أديت مع كراهة التحريم، والمختار أن المعادة لترك واجب نفل جابر، والفرض سقط بالأولى؛ لأن الفرض لايتكرر كما في الدر وغيره، ويندب إعادتها لترك السنة". 
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200235
تاریخ02-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں