بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مقروض شخص کا عمرہ کے لیے جانا

سوال

اگر کوئی شخص سعودی عرب میں کام کر رہا  ہو اور وہ مقروض ہو، اس کے پاس اتنی رقم بھی نہ ہو کہ وہ قرض ادا کر سکے، لیکن چوں کہ ادھر سے اس کے لیے عمرہ کرنا اتنا مشکل یا مہنگا نہیں ہے، کیا اس کا یہاں سے عمرہ ہوسکتا ہے؟

جواب

مقروض شخص کے لیے نفلی کا موں میں خرچ کرنے سے بہتر تو شرعاً یہی ہے کہ پہلے اپنے  واجب الادا قرض کی  ادا ئیگی کا انتظام کرے، پھر اگر وسعت ہو تو نفلی کاموں میں خرچ کرے ، لیکن اگر کوئی نفلی کام بغیر خرچہ کے یا معمولی خرچہ سے ادا ہوسکتا ہو  اور قرض کی ادائیگی میں اس کی وجہ سے تاخیر کا اندیشہ نہ ہو یا قرض خواہ خوش دلی سے مہلت دے رہاہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

چناں چہ بصورتِ مسئولہ چوں کہ مقروض وہیں سعودیہ میں  مقیم ہے اور وہاں سے عمرہ کرنے میں کوئی خاص خرچہ بھی نہیں؛ لہٰذا اس کاعمرہ کے لیے جانا جائز ہے، اس میں حرج نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200234
تاریخ02-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں